| تکبر |
منقول ہے کہ جب اِبلیس کے مَردُود ہونے کا واقعہ ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل اور حضرتِ سیِّدُنا میکائیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رونے لگے تو رب تعالیٰ نے دریافت کیا (حالانکہ سب کچھ جانتا ہے)کہ ''تم کیوں روتے ہو؟''انہوں نے عرض کی:''اے رب عَزَّوَجَلَّ ! ہم تیری خُفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں۔'' ربُّ العباد عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا:''تم اِسی حالت پر رہنا۔''
(الرسالۃ القشیریۃ،باب الخوف، ص۱۶۶)
سَیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام کی گِریہ وزاری
نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا کہ اِبلیسِ خَسِیس کے اَنجامِ بد سے عِبرت گِیر ہو کر کعبہ مُشَرَّفہ کے پردے سے لپٹ کر نہایت گِریہ وزاری کے ساتھااللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یہ دُعا کر رہے ہیں : ''اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْ یعنی اے میرے اللہ ! اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ! کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہلِ عطا کے زُمرے سے نکال کر اہلِ غضب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا ۔''
(منہاج العابدین ، ص۱۵۸ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہ عِبرت کی جا ہے
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ذرا سوچئے کہ تَکَبُّرکس قدر خطرناک باطِنی مرض ہے جس کی وجہ سے ''مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فِرِشتو ں کے اُستاذ '' کا رُتبہ پانے والے اِبلیس (شیطان)نے خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی اوراپنے مقام ومَنصَب