Brailvi Books

تکبر
11 - 98
اِبلیس کو اپنی بارگاہ سے دُھتکارتے ہوئے اِرشاد فرمایا :
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿۷۷﴾ۚ وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ لَعْنَتِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ الدِّیۡنِ ﴿۷۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: تو جنّت سے نکل جا کہ تُو راندھا(لعنت کیا)گیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک ۔(پ۲۳ ،سورہ صۤ:۷۷،۷۸)
تَکَبُّر نے کہیں کا نہ چھوڑا !
    میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح تَکَبُّر کے باعث اِبلیس(یعنی شیطان) کو اپنے اِیمان سے ہاتھ دھونے پڑے! شیطان جس کا نام پہلے عِزازِیل تھا ،۱؎  اِبتدا ہی سے سرکش ونافرمان نہ تھا بلکہ اُس نے ہزاروں سال عبادت کی، جنت کا خزانچی رہا ،۲؎  یہ جِن تھا۳؎  مگر اپنی عبادت و رِیاضت اور عِلمیّت کے سبب مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فرشتو ں کا اُستاذ بن گیا اور اس قدر مقرَّب تھا کہ بارگاہِ خداوندی میں ملائکہ کے پہلو بہ پہلو حاضر ہوتاتھا۔مگر چند گھڑیوں کے تَکَبُّر نے اُسے کہیں کا نہ چھوڑا ! حکمِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی وجہ سے اُس کی برسوں کی عبادتیں اَکارت(یعنی بے کار)اورہزاروں سال کی رِیاضتیں پامال ہوگئیں ، ذلّت ورُسوائی اُس کا مقدّر بنی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اُس کے گلے پڑ گیا اور وہ جہنَّم کے دائمی(یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے) عذاب کا مستحق ٹھہرا ۔
(اَ لْاَمَان وَالْحَفِیْظ )
__________________

۱؎ : الجامع لاحکام القرآن،البقرۃ،تحت الآيۃ ۳۴ ،ج۱،ص۲۴۶

۲؎ : الجامع لاحکام القرآن،البقرۃ،تحت الآيۃ ۳۴ ،ج۱،ص۲۴۷

۳ ؎ :پارہ۱۵،الکھف،۵۰
Flag Counter