Brailvi Books

تکبر
10 - 98
   میں اِس سے بہتر ہوں
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تخلیق(یعنی پیدائش)کے بعد تمام فرشتوں اور اِبلیس (شیطان)کوحکم دیا کہ اِن کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے حکمِ خداوندی کی تعمیل میں سجدہ کیا۔۱؎  فِرشتوں میں سے سب سے پہلے سجدہ کرنے والے حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل پھر حضرتِ سیِّدُنامیکائیل ، حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل پھر حضرتِ سیِّدُنا عِزرَائیل پھر دیگر مقرَّب فرشتے(علیہم السلام)تھے۔ ۲؎  یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زَوال سے عَصر تک کیا گیا۔۳؎ مگر اِبلیس نے انکار کردیا اور تَکَبُّر کر کے کافِروں میں سے ہوگیا ۔ ۴؎ جب ربّ ِاعلیٰ عَزَّوَجَلَّ نے اِبلیس سے اُس کے اِنکار کا سبب دریافت فرمایا تو اَکڑ کر کہنے لگا :
اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾
(پ۲۳ ،سورہ صۤ:۷۶) ترجمہ کنزالایمان: میں اِس سے بہتر ہوں کہ تُو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا ۔
اِس سے اِبلیس کی فاسِد مُراد یہ تھی کہ اگر حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّاللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آگ سے پیدا کئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہوکر اِن کو سجدہ کروں (معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)۔ اِبلیس کی اِس سرکشی، نافرمانی اور تَکَبُّر پر اُس کی حسین صورت ختم ہوگئی اور وہ بدشکل رُوسیاہ ہوگیا ،اُس کی نُورانیت سَلْب کر لی گئی ۔۵؎ اللہ ربُّ العزت جَلَّ جَلَالُہ نے
__________________

۱؎ : پ۱،البقرۃ:۳۴    ۲؎ :روح البيان،البقرۃ،تحت الآيۃ ۳۴،ج۱،ص۱۰۴

۳ ؎ :تفسیر خزائن العرفان،البقرۃ،تحت الآيۃ ۳۴،ص۱۰۹۴   ۴؎ :پ۱،البقرۃ:۳۴

۵؎ :تفسیر خزائن العرفان،ص۸۲۴ملخصاً
Flag Counter