معلوم ہوا کہ جوں ہی مُوسیقی کی آواز آئے فوراً کانوں میں اُنگلیاں داخِل کرکے وہاں سے دور ہٹ جائے کیوں کہ اگر اُنگلیاں تو کانوں میں ڈال دِیں مگر وہیں کھڑے یا بیٹھے رہے یا معمولی سا پرے ہٹ گئے تو مُوسیقی کی آواز سے بچ نہیں سکیں گے۔ اُنگلیاں کانوں میں ڈال کر نہ سَہی مگر کسی طرح بھی مُوسیقی کی آواز سے بچنے کی بھرپور کوشِش کرنا واجِب ہے۔
آہ!آہ!آہ! اب تو بسوں، گاڑیوں، طیّاروں، گھروں، دکانوں، گلیوں بازاروں میں جس طرف بھی جائیے مُوسیقی کی دُھنیں اور موبائل فونوں میں بھی معاذَاللہ میوزیکل ٹیونز سُنائی دیتی ہیں اورجو مَدَنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کا دیوانہ گناہ سے بچنے کی نیّت سے کانوں میں اُنگلیاں ڈال کردُور ہٹ جائے اُس کا مذاق اُڑے ۔ ؎