کو کہتے ہیں جو آدَمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے۔ کہانیاں، افسانے بھی اِس میں داخِل ہیں، شانِ نُزُول: یہ آیت نضر بن حارِث بن کلدہ کے حق میں نازِل ہوئی جو تجارت کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا۔ اس نے عَجَمِیوں کی کتابیں خریدیں جن میں قصّے کہانیاں تھیں، وہ قُریش کو سناتا اور کہتا:'' سرورِ کائنات) صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم(تمہیں عاد و ثَمود کے واقِعات سناتے ہیں اور میں رُستم و اِسفند یار اور شاہانِ فارس کی کہانیاں سناتا ہوں۔ کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآنِ پاک سننے سے رہ گئے۔ اِس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی۔
اِس سے جاسُوسی و رُومانی ناوِلیں اور عِشقِیہ وفِسقِیہ افسانے اور بھوت و پری کی کہانیاں اور لا یعنی لطیفے پڑھنے اور سُننے والے عِبرت حاصِل کریں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''بعض جلیلُ القَدَر صَحابہ و تابِعین مَثَلاً سیِّدُنا عبدا ﷲ بن مسعود، سیِّدُنا عبداﷲ بن عبّاس، سیِّدُنا سعید بن