اِسہال میں خارج ہوئے۔ اس سلسلہ میں آپ کو چالیس روز سخت تکلیف رہی۔ قریب ِوفات جب آپ کی خدمت میں آپ کے برادرِ عزیز سیدنا حضر ت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضر ہوکردریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟ تو فرمایا کہ تم اسے قتل کروگے؟حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیاکہ بے شک!حضرت امام عالی مقام نے فرمایا کہ میرا گمان جس کی طرف ہے اگر درحقیقت وہی قاتل ہے تو اللہ تعالیٰ منتقمِ حقیقی ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے کوئی بے گناہ مبتلائے مصیبت ہو۔ مجھے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ زہر دیا گیاہے لیکن اس مرتبہ کا زہر سب سے زیادہ تیزہے۔(1)
سبحان اللہ! حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت اور منزلت کیسی بلند و بالا ہے کہ اپنے آپ سخت تکلیف میں مبتلا ہیں، آنتیں کٹ کٹ کر نکل رہی ہیں، نزع کی حالت ہے مگر انصاف کا بادشاہ اس وقت بھی اپنی عدالت و انصاف کا نہ مٹنے والا نقش صفحۂ تاریخ پرثَبَت فرماتاہے۔ اس کی احتیاط اجازت نہیں دیتی کہ جس کی طرف گمان ہے اس کانام بھی لیاجائے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف پینتالیس سال چھ ماہ چندروزکی تھی کہ آپ نے پانچویں ربیع الاول 49ھ کو اس دارنا پائیدار سے مدینہ طیبہ میں رحلت فرمائی ۔(2)
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ.
وفات کے قریب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ ان کے برادر محترم حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھبراہٹ اوربے قرار ی زیادہ ہے اور سیمائے مبارک پر حُزْن و مَلال کے آثارنمودار ہیں۔ یہ دیکھ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے