| سوانحِ کربلا |
سے میری قوت عاجز اور عمل قاصر ہو اور جہاں تک میری رغبت اور میرا سوال نہ پہنچے اور میری زبان پر جاری نہ ہو ، جو تونے اولین وآخرین میں سے کسی کو عطا فرمایا ہویقین سے یارب العالمین! عزوجل مجھ کو اس کے ساتھ مخصوص فرما۔''
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دعا پرایک ہفتہ نہ گزرا کہ امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے پاس ایک لاکھ پچاس ہزار بھیج دئیے اور میں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی اور اس کا شکر بجالایا۔ پھر خواب میں دولت دیدار سے بہرہ مند ہوا۔ سرکار نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمایا :اے حسن! رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا حال ہے۔ میں نے خدا عزوجل کا شکر کرکے واقعہ عرض کیا، فرمایا :اے فرزند !جو مخلوق سے امید نہ رکھے اور خالق عزوجل سے لو لگائے اس کے کام یوں ہی بنتے ہیں۔حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت
ابن سعد نے عمران ابن عبداللہ ابن طلحہ سے روایت کی کہ کسی نے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخواب میں دیکھا کہ آپ کے دونوں چشم کے درمیان: قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌo (1) لکھی ہوئی ہے۔آپ کے اہل بیت میں اس سے بہت خوشی ہوئی لیکن جب یہ خواب حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کیاگیاتو انہوں نے فرمایا کہ واقعی اگر یہ خواب دیکھا ہے توحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر کے چند ہی روز رہ گئے
ہیں۔ یہ تعبیر صحیح ثابت ہوئی اور بہت قریب زمانہ میں آپ کو زہر دیاگیا۔ (2)
زہر کے اثر سے اِسْہالِ کَبِدی لاحِق ہوا اور آنتوں کے ٹکڑے کٹ کٹ کر1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔ (پ۳۰،الاخلاص:۱) 2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفائ، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲۔۱۵۳ملتقطاً وماخوذاً