Brailvi Books

سوانحِ کربلا
100 - 188
تسکینِ خاطِرِ مبارک کے لیے عرض کیا کہ اے برادرِ گرامی! آپ کیوں رنجیدہ ہیں،بے قراری کا کیا سبب ہے۔ مبارک ہو! آپ کو عنقریب حضور پر نور سیِّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں باریابی حاصل ہوگی اور حضرت علی مرتضیٰ اور حضرخدیجہ الکبریٰ اور فاطمہ زہرااور حضرت قاسم و طاہر اور حضرت حمزہ وجعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا دیدار نصیب ہوگا۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے برادرِ عزیز! میں کچھ ایسے امر میں داخل ہونے والا ہوں جس کی مثل اب تک داخل نہیں ہواتھا اور خلقِ الٰہی عزوجل میں سے ایسی خلق کو دیکھتا ہوں جس کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی اور اس کے ساتھ ہی آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیش آنے والے واقعات اور کوفیوں کی بد سلوکی وایذا رسانی کا بھی تذکرہ کیا۔(1)

اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کی نظر کے سامنے کربلا کا ہولناک منظر اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنہائی کا نقشہ پیش تھا اور کوفیوں کے مظالم کی تصویریں آپکو غمگین کررہی تھیں۔اسکے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درخواست کی تھی کہ مجھے روضۂ طاہرہ میں دفن کی جگہ عنایت ہوجائے انہوں نے اسکو منظور فرمایا۔ میری وفات کے بعد انکی خدمت میں عرض کیا جائے لیکن میں گمان کرتاہوں کہ قوم مانع ہوگی، اگر وہ ایسا کریں توتم ان سے تکرار نہ کرنا۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسب و صیت حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درخواست کی،آپ نے اس کو قبول فرمایا اور ارشاد فرمایاکہ بڑی عزت و کرامت کے ساتھ منظور
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۳
Flag Counter