Brailvi Books

سوانحِ کربلا
97 - 188
ناگوار ہوا اور انہوں نے طرح طرح کی تعریضیں کیں اور اشاروں کنایوں میں آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ آپ نے انھیں سمجھا دیا کہ مجھے گوارا نہ ہوا کہ ملک کے لیے تمہیں قتل کراؤں۔ اس کے بعد اِمام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ سے رحلت فرمائی اور مدینہ طیبہ میں اقامت گزیں ہوئے۔ 

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے حضرت اما م عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وظیفہ ایک لاکھ سالانہ مقرر تھا۔ ایک سال وظیفہ پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور اس وجہ سے حضرت امام کو سخت تنگی درپیش ہوئی۔ آپ نے چاہا کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی شکایت لکھیں، لکھنے کا ارادہ کیا، دوات منگائی مگر پھر کچھ سو چ کر توقف کیا۔ خواب میں حضورپر نورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پر انوار سے مشرف ہوئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے استفسار حال فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے میرے فرزند ارجمند! کیا حال ہے؟ عرض کیا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہ بخیرہوں اور وظیفہ کی تاخیر کی شکایت کی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دوات منگائی تھی تاکہ تم اپنی مثل ایک مخلوق کے پاس اپنی تکلیف کی شکایت لکھو۔ عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم مجبور تھا کیا کرتا ۔ فرمایا یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمّ اَقْذِفْ فِیْ قَلْبِیْ رِجَائَکَ وَاقْطَعْ رِجَآئِیْ عَمَّنْ سِوَاکَ حَتّٰی لَا اَرْجُوْ اَحَدًا غَیْرَکَ اَللّٰھُمَّ وَمَا ضَعُفَتْ عَنْہُ قُوَّتِیْ وَقَصُرَ عَنْہُ عَمَلِیْ وَلَمْ تَنْتَہِ اِلَیْہِ رَغْبَتِیْ وَلَمْ تَبْلُغْہُ مَسْئَلَتِیْ وَلَمْ یَجْرِ عَلٰی لِسَانِیْ مِمّا اَعْطَیْتَ اَحَدًا مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ منَ الْیَقِیْنِ فَخُصَّنِیْ بِہٖ یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔
   ''یارب ! عزوجل میرے دل میں اپنی امید ڈال اور اپنے ماسوا سے میری امید قطع کریہاں تک کہ میں تیرے سوا کسی سے اپنی امید نہ رکھوں۔ یارب! عزوجل جس
Flag Counter