Brailvi Books

سوانحِ کربلا
96 - 188
حیات میں ان کے ساتھ کس کس طرح کی بد سلوکیاں کیا کرتا تھا۔ تو وہ پہا ڑ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا: ''میں اس سے زیادہ حلیم کے ساتھ ایسا کرتا تھا۔''(1)

اللہ رے حلم! مروان کو بھی اعتراف ہے کہ آپ کی بردبادی پہاڑ سے بھی زیادہ ہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت
        حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے، اہل کوفہ نے آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور آپ نے وہاں چند ماہ چند روز قیام فرمایا، اس کے بعد آپ نے امر خلافت کا حضرت امیر معاویہ کو تفویض کرنا مسطور ذیل شرائط پر منظور فرمایا:

(1) بعد امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلافت حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچے گی

(2) اہل مدینہ اور اہل حجاز اور اہل عراق میں کسی شخص سے بھی زمانۂ حضرت امیر المومنین مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے متعلق کوئی مواخذہ ومطالبہ نہ کیا جاوے۔

(3) امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دیون کو ادا کریں۔ 

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تمام شرائط قبول کیں اور باہم صلح ہوگئی اور حضور انور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہرہواجو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ اللہ تعالیٰ میرے اس فرزند ارجمند کی بدولت مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت سلطنت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے خالی کردیا۔یہ وا قعہ ربیع الاول 41ھ؁ کا ہے۔

     حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب کو آپ کا خلافت سے دستبردار ہونا
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب، ص۱۵۱
Flag Counter