صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سرمبارک نہ اٹھاتے اور میں نے دیکھا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رکوع میں ہوتے تو ان کیلئے اپنے قدمین طاہر ین کو اتنا کشادہ فرمادیتے کہ یہ نکل جاتے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب بہت کثیر ہیں۔آپ علم و وقار، حشمت و جاہ، جودو کرم ، زہدوطاعت میں بہت بلند پایہ ہیں، ایک ایک آدمی کو ایک ایک لاکھ کا عطیہ مرحمت فرمادیتے تھے۔(1)
حاکم نے عبداللہ بن عبیدبن عمیر سے روایت کیا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پچیس حج پا پیادہ کئے ہیں اور کوتل سواریاں آپ کے ہمراہ ہوتی تھیں مگر امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو اضع اوراخلاص وادب کا اقتضاء کہ آپ حج کیلئے پیادہ سفر فرماتے، آپ کا کلام بہت شیریں تھا، اہل مجلس نہیں چاہتے تھے کہ آپ گفتگوختم فرمائیں۔(2)
ابن سعد نے علی بن زید بن جد عان سے روایت کی کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوبار اپنا کل مال راہ ِخد اعزوجل میں دے ڈالا اور تین مرتبہ نصف مال دیا اور ایسی صحیح تنصیف کی کہ نعلین شریف اور جرابوں میں سے ایک ایک دیتے تھے اور ایک ایک رکھ لیتے تھے۔(3)
آپ کے حلم کا یہ حال تھا کہ ابن عسا کرنے روایت کیا کہ آپ کی وفات کے بعد مروان بہت رویا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آج تو رورہاہے اور ان کی