Brailvi Books

سوانحِ کربلا
94 - 188
تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کی طرف نظر فرماتے اورایک مرتبہ اس فرزند جمیل کی طرف، میں نے سنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ یہ میرا فرزند سیدہے اور اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کریگا۔(1)

    بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' حسن ، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔''(2)

    ترمذی کی حدیث میں ہے،حضور علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ''حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماجنتی جوانوں کے سردار ہیں۔''(3)

    ابن سعد نے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ اور حضور کو سب سے پیارے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، میں نے دیکھا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم توسجدے میں ہوتے اور یہ والا شان صاحبزادے آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گردنِ مبارک یا پشتِ اقدس پر بیٹھ جاتے تو جب تک یہ اتر نہ جاتے آپ 

تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کی طرف نظر فرماتے اورایک مرتبہ اس فرزند جمیل کی طرف، میں نے سنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ یہ میرا فرزند سیدہے اور اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کریگا۔(1)

    بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' حسن ، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔''(2)

    ترمذی کی حدیث میں ہے،حضور علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ''حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماجنتی جوانوں کے سردار ہیں۔''(3)

    ابن سعد نے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ اور حضور کو سب سے پیارے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، میں نے دیکھا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم توسجدے میں ہوتے اور یہ والا شان صاحبزادے آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گردنِ مبارک یا پشتِ اقدس پر بیٹھ جاتے تو جب تک یہ اتر نہ جاتے آپ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب الحسن والحسین، 

الحدیث:۳۷۴۶،ج۲،ص۵۴۶

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب الحسن والحسین، 

الحدیث:۳۷۵۳،ج۲،ص۵۴۷

3۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی...الخ، 

الحدیث:۳۷۹۳،ج۵،ص۴۲۶
Flag Counter