Brailvi Books

سوانحِ کربلا
93 - 188
علیہ وآلہ وسلم مختار ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کانام حسن رکھا۔(1)

    ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انتظار فرمایا، یہاں تک کہ حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ کی بارگاہ میں وہ قرب حاصل ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو درگاہِ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا۔  مناسب ہے کہ اس فرزندسعادت مند کا نام فرزندِ حضرتِ ہارون کے نام پر رکھا جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کانام دریافت فرمایا۔ عرض کیا: شبر ارشا د ہوا کہ اے جبریل! لغت عرب میں اس کے کیا معنی ہیں،عرض کیا حسن اور آپ کا نام حسن رکھا گیا۔(2)

    بخاری و مسلم نے حضرت براء ابن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں: میں نے نور مجسم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی،شہزادہ بلند اقبال حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے دوش اقدس پر تھے اورحضور فرمارہے تھے: ''یارب! عزوجل میں اس کو محبوب رکھتا ہوں تو تُو بھی محبوب رکھ۔''(3)

    امام بخاری نے حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرماتے ہیں کہ حضور سرورعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم)، باب ششم، ج۱، ص۳۹۶۔۳۹۷

وسیراعلام النبلائ، ومن صغار الصحابۃ، ۲۶۹۔الحسن بن علی...الخ،ج۴،ص۳۷۹

والمسند للامام احمد بن حنبل،ومن مسند علی بن ابی طالب،الحدیث:۹۵۳،ج۱، 

ص۲۵۰ماخوذاً

2۔۔۔۔۔۔ روضۃ الشہداء (مترجم)، باب ششم، ج۱، ص۳۹۷۔۳۹۸

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب الحسن والحسین،

الحدیث:۳۷۴۹، ج۲،ص۵۴۷
Flag Counter