ہوئی۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام حسن رکھا اور ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیااور بال جدا کیے گئے اورحکم دیاگیا کہ بالوں کے وزن کی چاندی صدقہ کی جائے آپ خامس اہل کساء ہیں۔(1)
بخاری کی روایت میں ہے قبلۂ حُسن و جمال سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم سے کسی کو وہ مشابہتِ صوری حاصل نہ تھی جو سیدنا حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل تھی۔ آپ سے پہلے حسن کسی کانام نہ رکھا گیاتھا یہ جنتی نام پہلے آپ ہی کو عطا ہوا ہے۔(2)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت اما م حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کا مژدہ پہنچایا۔ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے ،فرمایا کہ اسماء میرے فرزند کو لاؤ ،اسماء نے ایک کپڑے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا۔سیدعالم علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے داہنے کان میں اذان اور بائیں میں تکبیر فرمائی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا : تم نے اس فرزند ارجمند کا کیا نام رکھا ہے، عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میری کیا مجال کہ بے اذن و اجازت نام رکھنے پر سبقت کرتالیکن اب جو دریافت فرمایا جاتا ہے تو جو کچھ خیال میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حرب نام رکھاجائے، آیندہ حضور صلی اللہ تعالیٰ