Brailvi Books

سوانحِ کربلا
91 - 188
 ابو بکر بزار نے غیلانیات میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :روز قیامت بطن عرش سے ایک ندا کرنے والا ندا کریگا کہ اے اہل مجمع! اپنے سر جھکاؤ، آنکھیں بندکرو، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ بنت سید عالم محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صراط سے گزریں پھر آپ سَترَّ ہزار باندیوں کے ساتھ جو سب حوریں ہوں گی بجلی کے کوندنے کی طرح گزر جائیں گی۔(1)

بخاری و مسلم نے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم مومنہ بیبیوں کی سردار ہو۔''(2)

    ترمذی و حاکم کی روایت میں ہے حضور علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :''مجھے اپنی اہل میں سب سے زیادہ پیاری فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ ''(3)
سیدین جلیلین شہیدین عظیمین حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما
    حضرت اما م ابو محمدحسن بن علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ آپ ائمہ اثناعشر میں امام دوم ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد لقب تقی و سید عرف سبط رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم او ر سبط اکبر ہے۔ آپ کو رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْلاور آخر الخلفاء بالنص بھی کہتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مبارکہ 15رمضان مبارک  3ھ؁ کی شب میں مدینہ طیبہ کے مقام پر
1۔۔۔۔۔۔اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ،کتاب المناقب، باب مناقب اہل البیت، 

ج۱،ص۳۶۸

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الاستیذان،باب من ناجیٰ...الخ، الحدیث:۶۲۸۵،۶۲۸۶، 

ج۴،ص۱۸۴

3۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب کان احب النسائ...الخ،الحدیث:۴۷۸۸، 

ج۴،ص۱۳۹
Flag Counter