تعالیٰ اس کو محبوب رکھتا ہے۔(1)
امام احمد و ذہبی وغیرہ محدثین نے حضرت ام المومنین صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ جبریل امین نے فرمایا کہ میں نے زمین کے مشارق و مغارب الٹ ڈالے کوئی شخص حضور پر نور محمد ِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے افضل نہ پایا اور میں نے زمین کے مشارق ومغارب الٹ ڈالے بنی ہاشم سے بڑ ھ کر کسی باپ کی اولاد افضل نہ پائی۔(2)
کسی شاعرنے ا س مضمون کو اپنی زبان میں اس طرح ادا کیا ہے ؎
جبریل سے اک روز یوں کہنے لگے شاہ امم
تم نے دیکھا ہے جہاں بتلاؤ تو کیسے ہیں ہم
کی عرض یہ جبریل نے اے مہ جبیں تیری قسم
آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
امام احمد وترمذی و حاکم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص قریش کی بے عزتی چاہے گا اللہ اسے رسوا کریگا۔''(3)