امام احمد و حاکم نے روایت کیا حضور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ''فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرا جزوہیں جو انھیں ناگوار وہ مجھے ناگوار جو انھیں پسند وہ مجھے پسند، روزقیامت سوائے میرے نسب اور میرے سبب اورمیری خَوِیْشاوَنْدی کے تمام نسب منقطع ہوجائیں گے۔''(1)
ان احادیث کے علاوہ جس قدر احادیث قریش کے حق میں وارد ہیں اور جو فضائل ان میں مذکور ہیں ان سب سے اہل بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اہل بیت سب کے سب قریش ہیں اور جو فضیلت کہ عام کے لئے ثابت ہو، خاص کے لئے ثابت ہوتی ہے۔ چند حدیثیں جو قریش کے حق میں وارد ہوئی ہیں یہاں بیان کی جاتی ہیں:
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبۂ جمعہ میں ارشاد فرمایا: ''اے لوگو! قریش کو بڑھاؤ اور ان سے آگے نہ بڑھو، ایسانہ کیا تو ہلاک ہوجاؤ گے۔ ان کی پیروی نہ چھوڑو ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے ، ان کے استادنہ بنو، ان سے علم حاصل کرو، وہ تم سے اَعْظَم ہیں ۔اگر ان کے تَفاخُر کا خیال نہ ہوتا تومیں انھیں ان مراتب سے خبردار کرتا جو بارگاہ الٰہی عزوجل میں انہیں حاصل ہیں۔'' (2)
بخاری نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ یہ امر قریش میں ہے ان سے جو عداوت کریگا اس کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔(3)
ایک حدیث میں آیا ہے: قریش سے محبت کرو، ان سے جو محبت کرتاہے اللہ