اس لئے علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بلدۂ پاک کے باشندوں کا ادب کرنا چاہیے اورحضورپاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جوارِ پاک کی حرمت کا لحاظ رکھنا لازم ہے چہ جائیکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک۔(1)
دیلمی نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ سے توسّل کی تمنا رکھتا ہوا وریہ چاہتا ہوکہ اسکو میری بارگاہِ کرم میں روزِقیامت حقِ شفاعت ہوتو چاہیے کہ وہ میرے اہلبیت علیہم الرضوان کی نیاز مندی کرے اور انکو خوشنود رکھے ۔(2)
امام ترمذی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ ''یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی زمین پر نازل نہ ہوا تھا اس نے حضرت رب العزت سے مجھ پر سلام کرنے اور یہ بشارت پہنچانے کی اجازت چاہی کہ حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنتی بیبیوں کی سردار ہیں اور حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنتی جوانوں کے۔'' (3)
ترمذی وابن ما جہ ،ابن حبان و حاکم نے روایت کیا ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :''جو اِن اہلِ بیت سے محار بہ (جنگ) کرے میں اس کا محارب ہوں اور جوان سے صلح کرے اس کی مجھ سے صلح ہے۔''(4)