| سوانحِ کربلا |
بیت سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔ (1)
اما م احمد و ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں کہ ہم منافقین کو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض سے پہنچانتے تھے۔یعنی ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔(2) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت فرائضِ دین سے ہے۔
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ؎یَا اَھْلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللہِ حُبُّکُمْ فَرْضٌ مِنَ اللہِ فِی الْقُراٰنِ اَنْزَلَہٗ(3)
اے اہلِ بیت پاک ! تمہاری ولاہے فرض، قرآن پاک اس پرہے ناطق بلاکلام۔
ابو سعید نے شرف النبوۃ میں روایت کیاآنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمہارے غضب سے غضب الٰہی عزوجل ہوتا ہے اور تمہاری رضا سے اللہ عزوجل راضی۔(4)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کوئی ا ن کی کسی اولا د کو ایذا پہنچائے اس نے اپنی جان کو اس خطرۂ عظیمہ میں ڈال دیاکیونکہ اس حرکت سے ان کو غضب ہوگا اور ان کا غضب،غضبِ الٰہی عزوجل کا موجب ہے۔ اسی طرح اہل بیت علیہم الرضوان کی محبت حضرت خاتون جنت کی رضا کا سبب ہے اور ان کی رضا رضائے الٰہی عزوجل۔1۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر، المقصد الثالث...الخ، ص۱۷۴ 2۔۔۔۔۔۔فضائل الصحابۃ لابن حنبل،الحدیث:۱۰۸۶،ج۲،ص۶۳۹ وسنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ، الحدیث:۳۷۳۷،ج۵،ص۴۰۰ 3۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح،شرح مقدمۃ المشکاۃ،ترجمۃ الامام الشافعی ومناقبہ،ج۱،ص۶۳ 4۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر، المقصد الثالث...الخ، ص۱۷۵