Brailvi Books

سوانحِ کربلا
85 - 188
کے دل میں جمع نہیں ہوسکتا۔

    اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عداوت رکھنے والا حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ صحیح حدیث میں آیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بر سر منبر فرمایا:ان اقوام کا کیا حال ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا رحم (قرابت) روز قیامت کچھ کام نہ آئے گا۔ ہاں خدا کی قسم! میرا رحم (رشتہ و قرابت) دنیا و آخرت میں موصول ہے۔ (1)

    قرطبی نے سیدا لمفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے آیۂ کریمہ:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾
کی تفسیر میں نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر راضی ہوئے کہ ان کے اہل بیت میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے۔(3)

    حاکم نے ایک حدیث روایت کی اور اس کو صحیح بتایا۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ آں سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے میرے رب نے میرے اہل بیت کے حق میں فرمایا کہ ان میں سے جوتوحید و رسالت کا مُقِرہوا،انکو عذاب نہ فرمائے۔ (4) 

    طبرانی و دار قطنی کی روایت ہے : حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اول گروہ جس کی میں شفاعت فرماؤں گا میرے اہل بیت ہیں پھر مرتبہ بمر تبہ قریش پھر انصار پھر اہل یمن میں سے جو مجھ پر ایمان لائے اور میرے متبع ہوئے۔ پھر تمام عر ب پھر اہل عجم
1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری،الحدیث:۱۱۱۳۸،ج۴،ص۳۸

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے(پ۳۰،الضحیٰ:۵)

3۔۔۔۔۔۔الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،سورۃ الضحٰی،تحت الآیۃ:۴،الجزئ۲۰،ج۱۰،ص۶۸

4۔۔۔۔۔۔المستد رک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب وعدنی ربی...الخ،الحدیث:۴۷۷۲،ج۴،ص۱۳۲
Flag Counter