اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے ساتھ محبت رکھنے والوں کو دوز خ سے خلاصی عطا فرمائی۔ (1)
امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے سید ین کریمین حسنین شہیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ پکڑ کر فرمایاکہ جس شخص نے مجھ سے محبت رکھی اور ان دونوں سے اور انکے والداور والدہ سے محبت رکھی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔(2)
یہاں مَعِیَّت سے مراد قُرْب ِحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کادرجہ تو انھیں کے ساتھ خاص ہے۔ کتنی بڑی خوش نصیبی ہے محبینِ اہلِ بیت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے ان کے جنتی ہونے کی خبردی اور مژدۂ قرب سے مسرور فرمایا مگر یہ وعدہ اور بشارت مومنین مخلصین اہل سنت کے حق میں ہے۔روافض اس کا محل نہیں جنہوں نے اصحاب رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی و بے باکی اور اکابرصحابہ علیہم الرضوان کے ساتھ بغض وعناد اپنا د ین بنالیا ہے۔ ان لوگوں کا حکم مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے جو آپ نے فرمایا: