میں شان مملکت وسلطنت پیدا ہوئی تو قدرت نے آل طاہر کو اس سے بچا یا اور اس کے عوض خلافت باطنہ عطا فرمائی ۔
حضرات صوفیہ کا ایک گروہ جزم کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں قطب اولیا ء، آل ِرسول ہی میں سے ہوں گے ۔اس تطہیر کا ثمرہ ہے کہ صدقہ ان پر حرام کیا گیا کیونکہ اس کو حدیث شریف میں صدقہ دینے والوں کا میل بتا یا گیا ہے مع ذلک اس میں لینے والے کی سَبْکی بھی ہے بجائے اس کے وہ خمس وغنیمت کے حقدار بنائے گئے جس میں لینے والا بلندو بالا ہوتا ہے ۔اس آل پاک کی عظمت وکرامت یہاں تک ہے کہ حضورسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں جب تک تم انھیں نہ چھوڑو گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے ۔ایک کتاب اللہ ،ایک میری آل ۔(1)
دیلمی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضور اقدس علیہ وآلہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے ارشاد فرمایا :دعا رکی رہتی ہے جب تک کہ مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درودنہ پڑھا جائے۔(2)
ثعلبی نے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کی کہ آپ نے آیت