یعنی یا رب یہ میرے چچا اور بمنزلہ میرے والد کے ہیں اور یہ میرے اہلِ بیت ہیں انہیں ا ۤتش دوزخ سے ایسا چھپاجیسا میں نے اپنی چادر مبارک میں چھپایا ہے۔ اس دعاپر مکان کے درودیوار نے آمین کہی ۔(1)
خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں چونکہ اہلِ بیتِ نسب کامر اد ہونا مخفی تھا اس لئے آں سرور ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فعل مبارک سے بیان فرمادیا کہ مراد اہل بیت سے عام ہیں ۔ خواہ بیتِ مسکن کے اہل ہوں جیسے کہ ازواج یا بیت نسب کے اہل بنی ہاشم ومطلب۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے آپ نے فرمایا: میں ان اہل بیت میں سے ہوں جن سے اللہ تعالیٰ نے رجس کو دور کیا اور انہیں خوب پاک کیا۔(2) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں بیت نسب بھی اسی طرح مراد ہے ۔جس طرح بیت مسکن۔ یہ آیت کریمہ اہل بیت کرام کے فضائل کا منبع ہے۔ اس سے ان کے اعزازِ مآثِر اور عُلُوِّ شان کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تمام اخلاق دَنیہ واحوال مذمومہ سے ان کی تطہیر فرمائی گئی۔ بعض احادیث میں مروی ہے کہ اہل بیت، نار پر حرام ہیں اور یہی اس تطہیر کا فائدہ اور ثمرہ ہے اور جو چیز ان کے احوال شریفہ کے لائق نہ ہو اس سے ان کاپر وردگار عزوجل انہیں محفوظ رکھتا اور بچاتا ہے۔ جب خلافت ظاہر ہ