Brailvi Books

سوانحِ کربلا
79 - 188
ہے تو جن برگزیدہ نفوس اور خوش نصیب حضرات کو اس بارگاہِ عالی میں قرب و نزد یکی اور اِخْتِصاص حاصل ہے ان کے مراتب کیسے بلند وبالاہوں گے اسی سے ا ۤپ اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے فضائل کا اندازہ کیجئے ان حضرات کی شان میں بہت آیتیں اور حدیثیں وارد ہوئیں:
 اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ  لِیُـذْہِبَ عَنۡكُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَكُمْ تَطْہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے رجس (ناپاکی) دور کرے اہل بیت رسول اور تمہیں پاک کرے،خوب پاک۔
    اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضیٰ، حضرت سیدۃ النساء فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی اور قرینہ اسکا یہ ہے کہ عَنْکُمْ اور اسکے بعدکی ضمیر یں مذکر ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہن کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ اس کے بعد ہی ارشاد ہوا:
وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیۡ  بُیُوۡتِكُنَّ(2)
اور یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہے اس لیے ان کے غلام حضرت عکرمہ بازار میں اس کی ندا کرتے تھے۔ (3)

    ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد خود سرکار دولت مدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات عالی صفات ہے تنہا۔ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت حضورکی ازواج
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمھیں 

پاک کر کے خوب ستھرا کردے۔ (پ۲۲،الاحزاب:۳۳)

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں۔ (پ۲۲،الاحزاب :۳۴)

3۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر، الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم، ص۱۴۳
Flag Counter