Brailvi Books

سوانحِ کربلا
80 - 188
مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہن کے حق میں نازل ہے علاوہ اس کے کہ اس پر آیت:
وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیۡ  بُیُوۡتِكُنَّ (1)
دلالت کرتی ہے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ یہ دولت سرائے اقدس ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہن ہی کا مسکن تھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے نسب و قرابت کے وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ ایک جماعت نے اسی پر اعتماد کیا اور اسی کو ترجیح دی اور ابن کثیرنے بھی اسی کی تائید کی ہے۔ (2)

    احادیث پر جب نظر کی جاتی ہے تو مفسرین کی دونوں جماعتوں کو ان سے تائید پہنچتی ہے۔ امام احمدنے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی۔ پنجتن سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی و حضرت فاطمہ و حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ہیں۔ 

                     ( صلوات اللہ تعالیٰ علی حبیبہ و علیہم وسلم )

اسی مضمون کی حدیث مرفوع ابن جریر نے روایت کی طبرانی میں بھی اسکی تخریج کی مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات نے ان حضرات کو اپنی گلیم مبار ک میں لے کر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یہ بھی بصحت ثابت ہوا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات کوتحت گلیم اقدس لے کر یہ دعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَآءِ اَھْلُ بَیْتِیْ وَخَاصَّتِیْ اَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا
یارب! یہ میرے اہلبیت اور میرے مخصو صین ہیں ان سے رجس و ناپاکی دور فرما اورانہیں پاک کردے اور خوب پاک ۔

    یہ دعا سن کرام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا : و اَنَا مَعَہُمْ
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں۔ (پ۲۲، الاحزاب:۳۴)

2۔۔۔۔۔۔ الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر،الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم، ص۱۴۳
Flag Counter