| سوانحِ کربلا |
حضرات کرام خلفا ئے راشدین علیہم الرضوان کا ذکر کیاگیا۔ ان کی ذواتِ مقدسہ مقربینِ بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں سب سے اعلیٰ مرتبہ رکھتی ہیں اور حق یہ ہے کہ حضورِ انور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جس کسی کو بھی ادنیٰ سی محبت و نسبت ہے اس کی فضیلت اندازے اور قیاس سے زیادہ ہے۔ اس آقائے نامدار سرکار دولت مدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اتنی نسبت کہ کوئی شخص ان کے بلدۂ طاہرہ اور شہر پاک میں سکونت رکھتا ہواس درجہ کی ہے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا :
مَنْ اَخَافَ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ ظُلْماً اَخَافَہُ اللہُ وَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(1)
جس نے اہل مدینہ کو ظلماً ڈرایا، اللہ تعالیٰ ا س پر خوف ڈالے گا اور اس پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور سب لوگوں کی لعنت۔(رواہ قاضی ابویعلی )
ترمذی کی حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ یَدْ خُلْ فِیْ شَفَاْعَتِیْ وَلَمْ تَنَلْہُ مَوَدَّتِی۔ (2)
حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا :جس نے عربوں سے بغض رکھا میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اس کو میری مَوَدَّت میسر نہ آئے گی۔
اتنی نسبت ایک شخص عرب کا باشندہ ہو اُس کو اِس مرتبہ پرپہنچادیتی ہے کہ اُس سے خیانت کرنے والا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت ومَوَدَّت سے محروم ہوجاتا1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۶۵۵۷، ج۵، ص۵۶۴ 2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب فی فضل العرب، الحدیث:۳۹۵۴، ج۵،ص۴۸۷