اب ابن ملجم کوفہ پہنچا اوروہاں کے خوارج سے ملا اور انہیں درپردہ اپنے ناپاک ارادہ کی اطلاع دی، خوارج اس کے ساتھ متفق ہوئے۔
شب جمعہ 17رمضان المبارک 40ھ کو امیر المومنین حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سحر کے وقت بیدار ہوئے، اس رمضان میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کایہ دستو ر تھا کہ ایک شب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس، ایک شب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس، ایک شب حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس افطار فرماتے اور تین لقموں سے زیادہ تناول نہ فرماتے تھے کہ مجھے یہ اچھا معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کے وقت میرا پیٹ خالی ہو۔
آج کی شب تو یہ حالت رہی کہ باربار مکان سے باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نظر فرماتے اور فرماتے کہ بخدا !مجھے کوئی خبر جھوٹی نہیں دی گئی یہ وہی رات ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔
صبح کو جب بیدار ہوئے تو اپنے فرزند ارجمند امیر المومنین امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:آج شب میں نے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور عرض کیا :یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے آرام نہ پایا۔فرمایا :انہیں بددعاکرو۔میں نے دعاکی کہ یارب! عزوجل مجھے ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرما اور انہیں میری جگہ ان کے حق میں برا دے۔(1)