Brailvi Books

سوانحِ کربلا
76 - 188
پیش آیا اور صفر 37ھ؁ میں جنگ صفین ہوئی جو ایک صلح پر ختم ہوئی اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کوفہ کی طرف مراجعت فرمائی اور اس وقت خوارج نے سرکشی شروع کی اور لشکر جمع کرکے چڑھائی کی۔ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے مقابلہ کے لیے بھیجا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان پر غالب آئے اور ان میں سے قوم کثیرواپس ہوئی اور ایک قوم ثابت رہی اور انہوں نے نِہْرَوان کی طرف جاکر راہزنی شروع کی۔ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فتنہ کی مدافعت کے لئے ان کی طرف روانہ ہوئے۔ 38ھ؁ میں آپ نے ان کو نہروان میں قتل کیا انھیں میں ذِی الثَّدْیَہ کو بھی قتل کیا جس کے خروج کی خبر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دی تھی، خوارج میں سے ایک نامراد عبدالرحمن بن ملجم مرادی تھا۔ اس نے برک بن عبد اللہ تمیمی خار جی اور عمر وبن بکیر تمیمی خارجی کو مکہ مکرمہ میں جمع کرکے حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان اورحضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قتل کا معاہدہ کیا اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے قتل کے لئے ابن ملجم آمادہ ہوا اور ایک تاریخ معین کرلی گئی۔

     مستدرک میں سُدی سے منقول ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم ایک خارجی عورت قطام نامی پر عاشق تھا۔ اس ناشاد کی شادی کا مہرتین ہزار درہم اورحضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو قتل کرنا قرار پایا۔ چنانچہ فرزدق شاعر نے کہا ؎
فَلَمْ  اَرَ مَھْرًا  سَاقَہٗ ذُوْ سَمَاحَۃٍ               کَمَھْرِ قِطَامِ بَیْنَا غَیْرِ مُعْجَمٖ           

ثَلَاثَۃُ  اٰلَافٍ  وَّ  عَبْدٌ   وَّ  قِیْنِۃٌ                 وَ ضَرْبُ عَلِیٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمَّمٖ

فَلَا مَھْرَ اَعْلٰی مِنْ عَلِیٍّ وَّاِنْ عَلَا          وَلَافِتْکَ اِلَّا دُوْنَ فِتْکِ ابْنِ مُلْجَمٖ
Flag Counter