حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:جس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی۔(1)
بزار اور ابو یعلی اور حاکم نے حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک مناسبت ہے ان سے یہود نے یہاں تک بغض کیا کہ ان کی والدہ ماجدہ پر تہمت لگائی۔ نصاریٰ محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے مُعْتَقِد ہوگئے۔ ہوشیار ہوجاؤ میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک محب مُفْرِط جو مجھے میرے مرتبہ سے بڑھائے اور حد سے تجاوز کرے، دوسرا مُبْغِض جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے۔ (2)
حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ رافضی و خارجی دونوں گمراہ ہیں اور ہلاکت کی راہ چلتے ہیں، طریق قویم اور صراط مستقیم پر اہلسنت ہیں جو محبت بھی رکھتے ہیں اور حد سے تجاوز بھی نہیں کرتے۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.