موسیٰ میں تھی (علیہما الصلوٰۃ و السلام) بجز اس بات کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آیا۔(1)
حضرت سہل ابن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے روز ِخیبر فرمایا کہ میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح فرمائے گا اور وہ اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو محبوب رکھتا ہے اور اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کو محبوب رکھتے ہیں۔ اس مثردۂ جانفزانے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو تمام شب امید کی ساعتیں شمار کرنے میں مصروف رکھا۔ آرزو منددلوں کو رات کاٹنی مشکل ہوگئی اور مجاہدین کی نیندیں اڑگئیں۔ہردل آرزومند تھا کہ اس نعمت عظمیٰ وکبریٰ سے بہرہ مند ہو اور ہر آنکھ منتظر تھی کہ صبح کی رو شنی میں سلطان دارین فتح کاجھنڈا کس کو عطا فرماتے ہیں۔صبح ہوتے ہی شب بیدارتمنائی امیدوں کے ذخائر لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور ادب کے ساتھ دیکھنے لگے کہ کریم ذرہ پرورکا دستِ رحمت کس سعادت مند کو سرفراز فرماتاہے۔ محبوب ِخدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ِمبارک کی جنبش پر ارمان بھری نگاہیں قربان ہورہی تھیں، رحمتِ عالمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اَیْنَ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍعلی ابن ابی طالب کہاں ہیں؟عرض کیا گیا :وہ بیمار ہیں، ان کی آنکھوں پر آشوب ہے۔ بُلانے کاحکم دیا گیا اور علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم حاضر ہوئے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کے حیات بخش لعاب سے ان کی چشمِ بیمار کا علاج فرمایا اور برکت کی دعا کی، دعا کرناتھا کہ نہ درد باقی رہا نہ کھٹک نہ سرخی نہ ٹپک ، آن کی آن میں ایسا آرام ہوا کہ گویا کبھی بیمار نہ ہوئے تھے اس