کے بعد ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔(1)
ترمذی ونسائی وابن ماجہ نے حبشی بن جنادہ سے روایت کی،حضورسیّدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلِیٌّ مِّنِّیْ وَاَنَا مِنْ عَلِیٍّ (2)(علی مجھ سے ہے اور میں علی سے) اس سے حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا کمالِ قرب بارگاہِ رسالت مآب سے ظاہر ہوتا ہے۔
امام مسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس کی قسم کہ جس نے دانہ کو پھاڑ ا اور اس کو روئید گی عنایت کی اور جانوں کو پیدا کیا بے شک مجھے نبی امی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایاکہ مجھ سے ایماندار محبت کریں گے اور منافق بغض رکھیں گے۔(3)
ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض رکھنا منافق کی علامت تھی اسی سے ہم منافق کو پہچان لیتے تھے۔(4)
حاکم نے حضرت مولیٰ علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی فرماتے ہیں: مجھے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا، میں نے عرض