فرمایا خصوصاً روز ِخیبر اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خبردی کہ ان کے ہا تھ پر فتح ہوگی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس روز قلعۂ خیبر کا دروازہ اپنی پشت پر رکھا اور اس پر مسلمانوں نے چڑھ کر قلعہ کو فتح کیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اسے کھینچنا چاہا تو چالیس آدمیوں سے کم اس کو نہ اٹھا سکے۔ جنگوں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارنامے بہت ہیں۔(1)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ناموں میں ابو تراب بہت پیارا معلوم ہوتا تھا اور اس نام سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوش ہوتے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ایک روز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد شریف کی دیوار کے پاس لیٹے ہوئے تھے۔ پشتِ مبارک کو مٹی لگ گئی تھی، حضور ِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آ پ کی پشتِ مبارک سے مٹی جھاڑ کر فرمایا:اِجْلِسْ اَبَا تُرَابٍ۔(2)یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا عطافرمایا ہوا خطاب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہرنام سے پیارا معلوم ہوتا تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نام سے سلطانِ کو نین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لطف و کرم کے مزے لیتے تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و محامد بہت زیادہ ہیں۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ میں اہل بیت کی حفاظت کیلئے چھوڑا حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بناتے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم راضی نہیں ہوکہ تمہیں میرے دربارمیں وہ مرتبت حاصل ہو جو حضرت ہارون کو دربار حضرت