تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عزت مُواخات بھی ہے ۔اور سید ۂ نساء عالمین خاتون جنت حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ آپ کا عقد نکاح ہوا۔ آپ سابقین اولین اور علماء ِربانیین میں سے ہیں۔ جس طرح شجاعت بَسالَت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نامِ نامی شہر ۂ عالم ہے، عرب و عجم بروبحر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زورو قوت کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیبت و دبدبہ سے آج بھی جوان مردانِ شیر دل کانپ جاتے ہیں اسی طرح آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ز ہدو ریاضت اَطراف واَکنافِ عالم میں وظیفۂ خاص وعام ہے۔ کروڑوں اولیا رحمہم اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینۂ نور گنجینہ سے مستفیض ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد ہدایت نے زمین کو خدا پرستوں کی طاعت و ریاضت سے بھر دیاہے۔ خوش بیان فصحا اور معروف خطبا میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند پایہ ہیں۔ جامعینِ قرآنِ پاک میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام نامی نورانی حرفوں کے ساتھ چمکتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنی ہاشم میں پہلے خلیفہ ہیں اور سبطین کریمین حسنین جمیلین سعیدین شہیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے والد ِماجد ہیں۔ سادات کرام اور اولادِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سلسلہ پروردگار عالم عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تبوک کے سوا تمام مَشاہِد میں حاضر ہوئے۔ جنگ ِتبوک کے موقع پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ پر خلیفہ بنایا تھا اور ارشاد فرمایا تھا کہ تمہیں ہماری بارگاہ میں وہ مرتبہ حاصل ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حضرت ہارون کو۔ (1)(علیہ الصلوٰۃ والسلام)
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چند مقاموں میں آپ کو لوا(جھنڈا) عطا