Brailvi Books

سوانحِ کربلا
69 - 188
عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یاد آئے اور اپنی نسبت یہ کلمہ سننا باعث ِملالِ خاطِر ہوا۔ اس سے اس محبت کا پتہ چلتا ہے جوحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہے اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ہنگامے کو روکنے کے لئے پوری کوشش فرمائی اور اپنے دونوں صاحبزادوں سیدنا حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر تلواریں لے کر حفاظت کے لیے بھیج دیاتھا لیکن جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اور جس کی خبریں حضور سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھیں اس کو کون رفع کرسکتا ہے۔
خلیفۂ چہارم

امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام نامی علی،کنیت ابوالحسن، ابو تراب ہے۔ آپ کے والد حضور سرورعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب ہیں۔ آپ نوعمروں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ اسلام لانے کے وقت آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف کیا تھی اس میں چند اقوال ہیں:ایک قول میں آپ کی عمر پندرہ سال کی، ایک میں سولہ کی، ایک میں آٹھ کی،ایک میں دس کی،اگرچہ عمر کے باب میں چند قول ہیں مگر اس قدر یقینی ہے کہ ابتدائے عمر میں بلوغ کے متصل ہی آپ دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی بت پرستی نہیں کی جس طرح کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بت پرستی کے ساتھ ُملَوَّث نہ ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں جن کے لیے جنت کا وعدہ دیا گیا اور علاوہ چچا زاد ہونے کے آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ِاکرم نبئ کریم صلی اللہ
Flag Counter