عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلوت میں کہا کہ اگر میں آپ سے بیعت نہ کروں تو آپ کی رائے کس کے لئے ہے؟ فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ۔اسی طرح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا :آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا۔ پھر اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا انہوں نے فرمایا :علی یا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔پھر سعد سے کہا کہ تم تو خلافت چاہتے نہیں اب بتاؤ رائے کس کے حق میں ہے؟ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا ۔پھر عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اَعْیان سے مشورہ لیا،کثرتِ رائے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں ہوئی اور آپ باتفاقِ مسلمین خلیفہ ہوئے ۔امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن سے تین روز بعد آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی گئی ۔(1)
آپ کے عہد ِمبارک میں رے اور روم کے کئی قلعے اور سابور اور ارجان اور دار ابجرداور افریقہ اور اندلس، قبرص،جوراور خراسان کے بلا دکثیر ہ اور نیشاپورا ورطوس اور سرخس اور مرواوربَیْہَق فتح ہوئے۔(2)
26ھمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد حرام (کعبۂ مقدسہ ) کی توسیع فرمائی اور
29 ھ میں مسجد مدینہ طیبہ کی تو سیع کی اور حجارئہ منقوشہ سے بنایا،پتھر کے ستون قائم كئے، سال کی چھت بنائی طول (160)گزاور عرض (150) گزکیا ،بارہ سال امورِ خلافت سر انجام فرماکر 35ھ میں شہادت پائی۔(3) رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔