علیہ الصلوٰۃ والسلام نے منبر سے نزول فرمایا اور یہ فرمایا کہ اس کے بعد عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نہیں جو کچھ کرے۔ (1)
مراد یہ تھی کہ یہ عمل خیر ایسا اعلیٰ اور اتنا مقبول ہے کہ اب اور نوافل نہ کریں جب بھی یہ ان کے مدارجِ عُلْیا کیلئے کافی ہے اور اس مقبولیت کے بعد اب انھیں کوئی اندیشۂ ضرر نہیں ہے ۔ان کلمات مبارکہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
بیعتِ رضوان کے وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود نہ تھے،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انھیں مکہ مکرمہ بھیجا تھا بیعت کے وقت یہ فرماکر کہ''عثمان اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کام میں ہیں۔'' اپنے ہی ایک دستِ مبارک کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے دستِ اقدس میں لے لیا ۔(2)
بیعت کی یہ شان حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے امتیاز وقربِ خاص کا اظہار کرتی ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکے فضائل میں بکثرت احادیث واردہیں ۔
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آخری عہد میں ایک جماعت مقرر فرمادی تھی جس کے ارکان یہ حضرات تھے ۔ حضرت عثمان غنی ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت طلحہ ،حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلیفہ کا انتخاب شوری پرچھوڑا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت