Brailvi Books

سوانحِ کربلا
67 - 188
    جب باغیوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محل کو گھیر لیا اس وقت آپ سے مقابلہ کے لیے عرض کیا گیا اور قوت آپ کی زیادہ تھی مگر آپ نے قبول نہ فرمایا، عرض کیا گیا کہ مکہ مکرمہ یا اورکسی مقام پر تشریف لے جائیں ،یہ بھی منظور نہ فرمایااور ارشاد فرما یا کہ میں رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا قرب چھوڑنے کی تاب نہیں رکھتا۔ جس روز سے آپ نے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی تھی اس روز سے دمِ آخرتک اپنا داہنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو نہ لگا یا کیونکہ یہ ہاتھ سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس میں دیا گیا تھا۔ روزِاسلام سے روزِ وفات تک کوئی جمعہ ایسا نہ گزرا کہ آپ نے کوئی غلام آزاد نہ کیا ہوا گر کبھی جمعہ کو آپ کے پاس کوئی بَرْدَہ نہ ہوا تو بعد جمعہ کے آزاد کردیا۔(1)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ایامِ تشریق میں ہوئی او ر آپ شنبہ کی شب میں مغرب و عشاء کے درمیان بقیع شریف میں مدفون ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر بیاسی سال کی ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نمازحضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھی اور انہوں نے آپ کو دفن کیا اور یہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت تھی۔(2)

    ابن عساکر نے یزید بن حبیب سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یورِش کرنے والوں میں سے اکثر لوگ مجنون و دیوانہ ہوگئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلا فتنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شہید کیا جاناہے اور آخرِ فِتَن دجال کا خروج۔(3)
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ، فصل فی خلافتہ،ص۱۲۸ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ، فصل فی خلافتہ، ص۱۲۸۔۱۲۹ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ، فصل فی خلافتہ،ص۱۲۹
Flag Counter