Brailvi Books

سوانحِ کربلا
64 - 188
    حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعدان کو ان کے چچا حَکم ابن ابی العاص ابن اُمیّہ نے پکڑ کر باندھ دیا اور کہا کہ تم اپنے آباو اجداد کا دین چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کرتے ہو، بخدا! میں تم کو نہ چھوڑوں گا جب تک تم اس دین کو نہ چھوڑو۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :خدا کی قسم! میں اس دین کو کبھی نہ چھوڑوں گا اور اس سے کبھی جدانہ ہوں گا ۔ حَکم نے آپ کا یہ زبر دست اِسْتِقْلال دیکھ کر چھوڑدیا۔(1)

    جس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دربارِ رسالت میں حاضر ہوتے، حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے لباس مبارک کو خوب درست فرماتے اور ارشاد فرماتے: میں اس شخص سے کیوں نہ حیا کروں جس سے ملا ئکہ شرماتے ہیں ۔(2)

    ترمذی نے عبدالرحمن بن خباب سے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا حضور ِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جیشِ عسرت کے لئے تر غیب فرمارہے تھے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں سواونٹ مع بار راہِ خدا میں پیش کروں گا ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر لوگوں کو ترغیب فرمائی،پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں دوسو اونٹ مع سامان حاضر کروں گا ۔پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ترغیب فرمائی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں تین سو اونٹ مع ان کے تمام اسباب کے ساتھ پیش کشِ خدمت کروں گا ۔ اب حضور
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ، ص۱۲۰

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ، فصل فی الاحادیث الواردۃ فی 

فضلہ...الخ،ص۱۲۰
Flag Counter