بدر کے زمانہ میں وفات پائی اور انھیں کی تیمار داری کی و جہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ باجازتِ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینۂ طیَّبہ میں رہ گئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کاسَہْم واَجْر بحال رکھا اور اسی وجہ سے وہ بدریوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جس روز بدر میں مسلمانوں کی فتح پانے کی خبر مدینۂ طیَّبہ میں پہنچی اسی دن حضرت رقیّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دفن کیاگیاتھا۔ اس کے بعدحضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دیا جن کی وفات 9ھمیں ہوئی۔علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا دنیا میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو صاحبزادیاں آئی ہوں، اسی لئے آپ کو'' ذوالنورین'' کہاجاتاہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین اَوَّلین اور اَوَّل مہاجرین عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں اور ان صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے ہیں جن کوا للہ تعالیٰ نے جمعِ قرآن کی عزت عطافرمائی۔ (1)
حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت دریافت کیاگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جس کو ملاءِ اعلیٰ میں ''ذوالنور ین'' پکارا جاتاہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ارویٰ بنت کریزابن ربیعہ ابن حبیب بن عبد ِشمس ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نانی امِ حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب ابن ہاشم ہیں جو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد کی تَوْاَمَہ یعنی ان کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن ہیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت حسین و جمیل خوبروتھے۔(2)