| سوانحِ کربلا |
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کرامات اور فضائل بہت زیادہ ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں بہت اـحادیث وارد ہیں۔ ذی الحجہ 23ھ میں آپ ابو لولومجوسی کے ہاتھ سے مسجد میں شہید ہوئے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ زخم کھانے کے بعد آپ نے فرمایا: ''کَانَ اَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُوْرًا''اور فرمایا: اللہ عزوجل کی تعریف جس نے میری موت کسی مدعیٔ اسلام کے ہاتھ پر نہ رکھی۔ بعد ِوفات شریف باجازت حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب روضۂ قدسیہ کے اندر پہلوئے صدیق میں مدفون ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امر خلافت کو شوریٰ پر چھوڑا، وفات شریف کے وقت اَرْجَح اقوال پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف تریسٹھ سال کی تھی آپ کی مُہر کانقش تھا:کَفٰی بِالْمَوْتِ وَاعِظًا۔ (1)
خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
آپ کا نسب نامہ عثمان بن عفان ابن ابی العاص ابن اُمیّہ ابن عبد ِشمس ابن عبد ِمناف ابن قُصَیْ بن کلاب ابن مُرَّہ ابن کعب ابن لُوءَ یّ ابن غالب ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت عامِ فیل سے چھٹے سال ہوئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدیم ُالاسلام ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسلام کی دعوت حضرت صدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں ہجرتیں فرمائیں پہلے حبشہ کی طرف دوسرے مدینۂ طیَّبہ کی طرف۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں حضور ِانور سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں آئیں۔ پہلے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،ان کے ساتھ نبوت سے قبل نکاح ہوا اور انہوں نے غزوۂ
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ، فصل فی خلافتہ، ص۱۰۶۔ ۱۰۸ملتقطاً