گئی، بڑے بڑے فریدوں فَرْ شہریار وں کےتاج قدموں میں روندے گئے۔ ممالک و بِلاد اس کثرت سے قبضہ میں آئے کہ ان کی فہرست لکھی جائے تو صفحے کے صفحے بھر جائیں، رعب و ہیبت کا یہ عالم تھا کہ بہادروں کے زَہْر ے نام سن کر پانی ہوتے تھے، جنگ جویاں صاحبِ ہنر کا نپتے اور تھراتے تھے، قاہر سلطنتیں خوف سے لرزتی تھیں۔ بایں ہمہ فرد اقبال ورعب وسَطْوَت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درویشانہ زندگی میں کوئی فرق نہ آیا۔ رات دن خوفِ خداعزوجل میں روتے روتے رخساروں پرنشان پڑگئے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے عہد میں سنہ ہجری مقرر ہوا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے دفتر و دیوان کی بنیاد ڈالی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے بیت المال بنایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے تمام بلادواَمْصار میں تراویح کی جماعتیں قائم فرمائیں،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے شب کے پہرہ دار مقرر کئے جو رات کو پہرہ دیتے تھے۔ یہ سب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خصوصیتیں ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ان میں سے کوئی بات نہ تھی۔ (1)
ابن عساکرنے اسماعیل بن زیاد سے روایت کی کہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم مسجدوں پر گزرے جن پر قندیلیں روشن تھیں، انھیں دیکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبرکو روشن فرمائے جنہوں نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے یہود کو حجاز سے نکالا۔(2)