| سوانحِ کربلا |
ازواج کا مہر چالیس اوقیہ سے زیادہ نہ فرمایا لہٰذا جو کوئی آج کی تاریخ سے اس سے زیادہ مہر مقرر کریگا وہ زیادتی بیت المال میں داخل کرلی جائے گی۔ ایک ضعیفہ عورتوں کی صف سے اٹھی اور اس نے عرض کیا :اے امیر المومنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسا کہنا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منصب عالی کے لائق نہیں، مہرا للہ تعالیٰ نے عورت کا حق کیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اس کا کوئی جز وا س سے کس طرح لیا جاسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَّاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰہُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنْہُ شَیۡئًا ؕ
(1)آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً بے دَرِیْغ دادِ ا نصاف دی اور فرمایا:
إمراَۃٌ اَصَابَتْ وَرَجُلٌ اَخْطَاَ
عورت ٹھیک پہنچی اور مرد نے خطا کی۔ پھر منبر پر اعلان فرمایا کہ عورت صحیح کہتی ہے میری غلطی تھی جو چاہو مہر مقرر کر و اور فرمایا :
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ کُلُّ اِنْسَانٍ اَفْقَہُ مِنْ عُمَرَ۔
یارب! عزوجل میری مغفرت فرما، ہر شخص عمر سے زیادہ دانا ہے۔ سبحان اللہ! زہے عدل ودادوخہے عجزو انکسار۔
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماہِ جمادی الاخری 13 ھ میں مسند آرائے سریرِ خلافت ہوئے۔دس سال چند ماہ امور خلافت کو انجام دیا۔ اس دہ سالہ خلافت کے ایام نے سلاطینِ عالم کو متحیر کردیا ہے۔ زمین عدل و داد سے بھرگئی، دنیا میں راستی و دیانت داری کا سکہ رائج ہوا، مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی و پاکبازی کا جذبہ پیدا ہوا، اسلام کے برکات سے عالم فیض یاب ہوا، فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ آج تک ملک و سلطنت کے والی وسپاہ ولشکر کے مالک حیرت میں ہیں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکروں نے جس طرف قدم اٹھایا فتح وظفر قدم چومتی1۔۔۔۔۔۔ترجمہء کنز الایمان: اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تواس میں سے کچھ واپس نہ لو ۔ (پ۴،النسآء:۲۰)