دیکھنے لگا دل میں محبت و ہیبت پیدا ہوئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حقانیت کا پر تو اس کے دل میں جلوہ گر ہوا ؎
مہر و ہیبت ہست ضدِّ یک دگر
ایں دو ضد را جمع دید اندر جگر
گفت باخود من شہاں را دیدہ ام
گرد سلطاں راہمہ گر دیدہ ام
از شہانم ہیبت و ترسے نبود
ہیبت ایں مرد ہوشم در ربود
رفتہ ام در بیشۂ و شیر و پلنگ
روئے من ز ایشاں نگر دانند رنگ
بس شدم اندر مصافِ کار زار
ہمچو شیراں دم کہ باشد کار زار
بسکہ خوردم بس زدم زخمِ گراں
دل قوی تر بودہ ام از دیگراں
بے سلاح ایں مرد خفتہ بر زمیں
من بہفت اندام لرزاں ایں چنیں
ہیبتِ حق ست ایں از خلق نیست
ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں امیرا مومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تھا۔ آپ جب بَعَزْمِ حج مدینۂ طیَّبہ سے روانہ ہوئے آمدورفت میں امراء وخلفاء کی طرح آپ کے لئے خیمہ نصب نہ کیا گیا، راہ میں جہاں قیام فرماتے اپنے کپڑے اور بستر کسی درخت پر ڈال کر سایہ کرلیتے۔(1)
ایک روزبرسرِ منبر مَوْعِظَت فرمارہے تھے۔ مہر کا مسئلہ زیرِبحث آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مہر گراں نہ کیے جائیں اور چالیس اوقیہ سے مہر زیادہ مقرر نہ کیا جائے۔ (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے) کیونکہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی