حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قمیص مبارک میں دوشانوں کے درمیان چار پیوند لگے تھے۔ (1)
یہ بھی روایت ہے کہ شام کے ممالک جب فتح ہوئے اورآپ نے ان ممالک کو اپنے قدومِ مَیْمَنَتْ لُزوم سے سرفراز فرمایا اور وہاں کے امراء وعظما ء آپ کے استقبال کیلئے آئے اس موقع پر آپ اپنے شتر پر سوار تھے، آپ کے خواص و خدام نے عرض کیا: اے امیر المومنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کے اکابر واشراف حضور کی ملاقات کیلئے آرہے ہیں مناسب ہوگا کہ حضور گھوڑے پر سوار ہوں تاکہ آپ کی شوکت وہیبت ان کے دلوں میں جاگزیں ہو، فرمایا :اس خیال میں نہ رہیئے کام بنانے والا اور ہی ہے۔سبحان اللہ!
ایک مرتبہ قیصرِ روم کا قاصد مدینہ طیبہ میں آیا اور امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش کرتاتھا تاکہ بادشاہ کا پیام آپ کی خدمت میں عرض کرے، لوگوں نے بتایاکہ امیر المومنین مسجد میں ہیں، مسجد میں آیادیکھا کہ ایک صاحب موٹے پیوند زدہ کپڑے پہنے ایک اینٹ پر سر رکھے لیٹے ہیں، یہ دیکھ کر باہر آیا اور لوگوں سے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاپتہ دریافت کرنے لگا، کہاگیا: مسجد میں تشریف فرماہیں، کہنے لگا:مسجد میں تو سوائے ایک دَلَقْ پوش کے کوئی نہیں۔ صحابہ علیہم الرضوان نے کہا :وہی دلق پوش ہمارا امیر خلیفہ ہے ؎
بر در میکدہ رِندانِ قلندر باشند
کہ ستانند ودِہند افسر شاہنشاہی
خشت زیر سر وبر تارک ہفت اختر پائے
دست قدرت نگر و منصب صاحب جاہی
قیصر کا قاصد پھر مسجد میں آیا اور غور سے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرۂ مبارک کو