Brailvi Books

سوانحِ کربلا
57 - 188
نے دریافت کیا:کیا؟ کہا: اس مہینے کی گیارہ تاریخ کو ہم ایک کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکردریائے نیل میں ڈالتے ہیں۔ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اسلام میں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اسلام پرانی واہیات رسموں کو مٹاتا ہے۔ پس وہ رسم موقوف رکھی گئی اور دریا کی روانی کم ہوتی گئی یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں سے چلے جانے کا قصد کیا، یہ دیکھ کر حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تمام واقعہ لکھ بھیجا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔بے شک اسلام ایسی رسموں کو مٹاتا ہے۔ میرے اس خط میں ایک رقعہ ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔ عمرو بن عاص کے پاس جب امیر المومنین کا خط پہنچا اور انہوں نے وہ رقعہ اس خط میں سے نکالا تو اس میں لکھاتھا:''از جانب بندۂ خدا عمر امیرا لمومنین بسوئے نیلِ مصر بعد ازحمدو صلوٰۃ آنکہ اگر تو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا تو میں اللہ واحد قہار سے درخواست کرتاہوں کہ تجھے جاری فرمادے۔''عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈالا ایک شب میں سولہ گز پانی بڑھ گیااور بھینٹ چڑھانے کی رسم مصر سے بالکل موقوف ہوگئی۔ (1)
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کازہد و ورع، تواضع وحلم
     حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ گیارہ لقمے سےزياده طعام ملاحظہ نہ فرماتے۔ (2)
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عمر بن الخطاب فصل فی کراماتہ،ص۱۰۰

2۔۔۔۔۔۔ احیاء العلوم،کتاب کسرالشہوتین،بیان طریق الریاضۃ...الخ،ج۳،ص۱۱۱(وفیہ سبع 

لقم او تسع لقم۔ واللہ تعالٰی اعلم)
Flag Counter