Brailvi Books

سوانحِ کربلا
56 - 188
دیکھا کہ کفار اس کو دونوں طرف سے گھیر کرمارنا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں مَیں نے پکار کر کہہ دیا کہ اے ساریہ! جبل۔ یعنی پہاڑ کی آڑلو۔ یہ سن کر لوگ منتظر رہے کہ لشکر سے کوئی خبرآئے تو تفصیلی حال دریافت ہو۔ کچھ عرصہ کے بعد ساریہ کا قاصدخط لے کر آیا اس میں تحریر تھا کہ جمعہ کے روز د شمن سے مقابلہ ہورہا تھا خاص نماز جمعہ کے وقت ہم نے سنا: ''یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلْ''یہ سن کر ہم پہاڑ سے مل گئے اور ہمیں دشمن پر غلبہ حاصل ہوا یہاں تک کہ دشمن کو ہزیمت ہوئی۔ (1)

    سبحان اللہ! خلیفۂ اسلام کی نظر مدینۂ طیَّبہ سے نِہاوَنْدمیں لشکر کو ملاحظہ فرمائے اور یہاں سے ندا کرے تو لشکر کو اپنی آواز سنائے نہ کوئی دوربین ہے نہ ٹیلیفون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سچی غلامی کا صدقہ ہے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

    ابوا لقاسم نے اپنی ''فوائد'' میں روایت کی کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس کانام دریافت فرمایا:کہنے لگا: میرانام جمرہ (اخگر) ہے۔فرمایا :کس کا بیٹا؟ کہا:ابن شہاب(آتش پارہ ) کا، فرمایا :کن لوگوں میں سے ہے؟ کہا :حرقہ (سوزش) میں سے، فرمایا : تیرا وطن کہاں ہے ؟کہا :حرہ ( تپش) ،فرمایا: اس کے کس مقام پر ؟کہا: ذات لظٰی (شعلہ وار) میں ،فرمایا:اپنے گھر والوں کی خبر لے سب جل گئے، لوٹ کر گھر آیا تو سارا کنبہ جلا پایا۔(2)

    ابو الشیخ نے ''کتاب العظمۃ'' میں روایت کی ہے کہ جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مصر نے حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رسم ہے جب تک اس کو ادانہ کیاجائے دریاجاری نہیں رہتا انہوں
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب فصل فی کراماتہ، ص۹۹

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب فصل فی کراماتہ، ص۱۰۰
Flag Counter