| سوانحِ کربلا |
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو محبوب رکھا اس نے مجھے محبوب رکھا۔(1)
طبرانی و حاکم نے ر وایت کی کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم میزان کے ایک پَلّے میں رکھاجائے اور روئے زمین کے تمام زندہ لوگوں کے علوم ایک پَلّہ میں تو یقینا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم ان سب کے علوم سے زیادہ وزنی ہوگا۔ ابواسامہ نے کہا جانتے ہو ابوبکر وعمر کون ہیں یہ اسلام کے پدرو مادر ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں اُس سے بری وبیزارہوں جوحضرت ابوبکر و عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہما کا ذکر بدی کے ساتھ کرے۔(2)حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کرامات
آپ کے کرامات بہت ہیں ان میں سے چند مشہور کرامتیں ذکر کی جاتی ہیں :
بیہقی و ابو نعیم وغیرہ محدثین نے بطریقِ معتبر روایت کیا کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اثناء خطبہ میں تین مرتبہ فرمایا:یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلْ حاضرین مُتَحَیِّر ومُتَعَجِّب ہوئے کہ اَثناء ِخطبہ میں یہ کیا کلام ہے۔ بعد کو آپ سے دریافت کیا گیا کہ آج آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ فرماتے فرماتے یہ کیا کلمہ فرمایا ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ لشکرِ اسلام جو ملکِ عجم میں مقامِ نِہاوَنْد میں کفار کے ساتھ مصروفِ پیکارہے میں نے1۔۔۔۔۔۔المعجم الاوسط للطبرانی، الحدیث:۶۷۲۶،ج۵،ص۱۰۲ 2۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث:۸۸۰۹،ج۹،ص۱۶۳ وتاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب، فصل فی اقوال الصحابۃ والسلف فیہ،ص۹۶