Brailvi Books

سوانحِ کربلا
54 - 188
     ابن عساکِرنے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، آپ نے فرمایا کہ میں جہاں تک جانتا ہوں جس کسی نے بھی ہجرت کی چھپ کر ہی کی۔ بجز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہجرت کی یہ شان تھی کہ مسلح ہوکر خانہ کعبہ میں آئے، کفار کے سردار وہاں موجود تھے،آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم میں دو رکعتیں ادا کیں پھر قریش کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور للکار کر فرمایا کہ جو اس کے لئے تیار ہو کہ اس کی ماں اسے روئے اور اس کی اولاد یتیم ہو،بیو ی رانڈ ہو وہ میدان میں میرے مقابل آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ کلمات سن کر ایک سناٹا ہوگیا کفار میں سے کوئی جنبش نہ کرسکا۔ (1)

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت میں بہت کثرت سے حدیثیں وارد ہوئیں اور ان میں بڑی جلیل فضیلتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ترمذی و حاکم کی صحیح حدیث میں وارد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ممکن ہوتا، حضرت عمر بن خطاب ہوتے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اس سے جلالت و منزلت و رفعتِ درجت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ظاہر ہے۔ ابن عسا کر کی حدیث میں وارد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کا ہر فرشتہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توقیر کرتا ہے اور زمین کا ہر شیطان ان کے خوف سے لرزتا ہے۔ (2)

    طبرانی نے اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،عمر بن الخطاب، فصل فی ہجرتہ رضی اﷲ عنہ،ص۹۱

2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، 

الحدیث:۳۷۰۶،ج۵،ص۳۸۵

وتاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب، فصل فی الاحادیث الواردۃ...الخ، ص۹۳
Flag Counter