Brailvi Books

سوانحِ کربلا
53 - 188
وقت وحی آرہی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور حضرت عمر کے کپڑے اور تلوار کی حمائل پکڑ کر فرمایا: اے عمر !تو باز نہیں آتا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر وہ عذاب و رسوائی نازل فرمائے جو ولید ابن مغیرہ پر نازل فرمائی۔ حضرت عمر نے عرض کیا: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّکَ عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُہٗ. (1)

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں نے قرآن شریف پڑھا اسی وقت اس کی عظمت میرے دل میں اثر کرگئی اور میں نے کہا کہ بد نصیب قریش ایسی پاکیزہ کتاب سے بھاگتے ہیں۔ اسلام لانے کے بعد آپ باجازت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام دو صفیں بناکر نکلے۔ ایک صف میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسری میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یہ پہلا دن تھا کہ مسلمان اس اعلان اور شوکت کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے، کفارِ قریش دیکھ دیکھ کر جل رہے تھے اور انھیں نہایت صدمہ تھا۔ آج اس ظہورِ اسلام اور حق و باطل میں فرق و امتیاز ہوجانے پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا۔ (2)

    ابن ما جہ وحاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے۔ حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اہلِ آ سمان حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کی خوشیا ں منار ہے ہیں۔(3)
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب، فصل فی الاخبار الواردۃ فی اسلامہ، ص۸۷۔ ۸۸

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب، فصل فی الاخبار الواردۃ...الخ،ص۹۰ ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی فضاہل اصحاب رسول اﷲ،فضل عمر، 

الحدیث:۱۰۳،ج۱،ص۷۶
Flag Counter