Brailvi Books

سوانحِ کربلا
52 - 188
بچانے کیلئے آپ کی بہن آئیں ، انھیں بھی ماراحتیٰ کہ ان کا چہرہ خون آلود ہوگیا۔ انہوں نے غضب ناک ہوکر کہاکہ تیرے دین میں حق نہیں۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور حضر ت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: مجھے وہ کتاب دو جو تمہارے پاس ہے میں اسے پڑھوں ۔ ہمشیرہ صا حبہ نے فرمایا کہ تم ناپاک ہواور اس کو پاکوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا۔ اٹھو غسل کرو یا وضو کرو۔ آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور کتاب پاک لے کر پڑھا:
طٰہٰ ۚ﴿۱﴾   مَاۤ  اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤ ۙ﴿۲﴾
یہاں تک کہ آپ
اِنَّنِیۡۤ  اَنَا اللہُ  لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّاۤ  اَنَا فَاعْبُدْنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ  لِذِكْرِیۡ ﴿۱۴﴾
تک پہنچے تو حضرت عمر نے فرمایا مجھے (حضور پرنور)محمد (مصطفی) صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو۔ یہ سن کر حضرت خبّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر نکلے اور انہوں نے کہا: مبارک ہو اے عمر! میں امید کرتاہوں کہ تم ہی دعائے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہو ۔ پنج شنبہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی تھی، یارب عزوجل !اسلام کو عمربن خطاب یا ابوجہل بن ہشام سے قوت عطا فرما۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مکان پر آئے جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماتھے۔ دروازہ پر حضرت حمزہ وطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دوسرے لوگ تھے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:یہ عمر ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو ان کی بھلائی منظور ہوتو ایمان لائیں ورنہ ہمیں ان کا قتل کرنا سہل ہے، حضور پُر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر اس
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لہے نہ اتاراکہ تم مشقت میں پڑو۔ 

(پ۱۶،طٰہٰ :۱،۲)

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوہی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لہے نماز قاہم رکھ۔ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۴)
Flag Counter